نئی دہلی 21/دسمبر (ایس او نیوز) ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف ملک گیر پیمانے پر جاری احتجاجات کا سلسلہ کچھ رنگ لارہا ہے اور مرکزی حکومت اس معاملے میں کچھ نرم پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔اس بات کا پہلا اشارہ یہ ہے کہ سی اے اے کے سلسلے میں جو نوٹی فکیشن جاری ہونا تھا اسے فی الحال روک لیا گیا ہے۔
امیت شاہ کا ٹویٹ ہوگیاڈیلیٹ!: دوسرا ثبوت یہ ہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے دو مہینے پہلے حکومت کے آفیشیل ٹویٹر پر جو ٹویٹ کیا تھا کہ این آ ر سی سے پہلے سی اے بل لایا جائے گا اورپھرپورے ملک میں اسے نافذ کرتے ہوئے ایک ایک در اندز (گھس پیٹھیے) کونکال باہر کیاجائے گا، اس ٹویٹ کو بڑی خاموشی کے ساتھ اپنے اکاؤنٹ سے ہٹادیا ہے۔جانکاروں کی طرف سے اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ احتجاجی سلسلہ شروع ہونے کے بعد وزیر اعظم اور وزیر داخلہ جو وضاحتی بیانات اور تسلیاں دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس سے بھارت کے کسی بھی شہری کو نقصان نہیں پہنچے گا، یہ ٹویٹ ان بیانات سے میل نہیں کھارہا تھا۔کچھ اس طرح کی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ حکومت نے براہ راست ہندوستانی شہریت پانے کے لئے1971کوقطعی تاریخ جو بتایا ہے اب اسے بڑھاکر 1987کرنے پر غور کررہی ہے اور دیگر کچھ شرائط کو نرم یا تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ مگر اس کی سرکاری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
حکومت کی پریشانی: مرکزی حکومت کی پریشانی یہ ہے کہ این آر سی اور سی اے اے کے خلاف شمالی مشرقی ریاستوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ممتا بنرجی نے بنگال میں زبردست مورچہ سنبھال رکھا ہے۔لیکن بی جے پی کو بڑا جھٹکااپنی حلیف پارٹی جنتادل (یو) سے لگا ہے، جس کے سربراہ اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بہار میں این آر سی لاگو کرنے سے یکسر انکار کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ”کاہے کا این آر سی؟بالکل لاگو نہیں ہوگا۔“ادھر اوڈیشہ کے وزیراعلیٰ اور بیجو جنتادل کے چیف نے بھی این آر سی کو انگوٹھا دکھا دیا ہے۔
حکومت کی ساکھ کو نقصان: ان حالات کے پس منظر میں ایسا لگ رہا ہے کہ مرکزی حکومت اپنے اس قانون کی وجہ سے خود حکومت کی ساکھ کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک افسرنے بتایا کہ حکومت اس قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے تجاویز اور مشورے لینے کے لئے تیار ہے۔ حالانکہ ابھی اس کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے لیکن خبر یں ایسی مل رہی ہیں کہ حکومت شہریت ثابت کرنے کے لئے ووٹر شناختی کارڈ، آدھار کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور انشورنس کے کاغذات وغیر ہ کو بھی قبول کرنے پر غور کرسکتی ہے۔
بی جے پی کو توقع نہیں تھی: جہاں تک نوٹی فکیشن جاری کرنے میں تاخیر کرنے کی بات ہے اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے یہ موقف پیش کیا ہے کہ ”چونکہ یہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے“ اس لئے انتظار کیا جا رہا ہے۔ادھر وزیر مالیات نرملا سیتا رامن نے بھی وزیر مملکت برائے داخلی امور کشن ریڈی کا بیان دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ”متعلقہ اورمتاثرہ لوگوں“ سے مشورے کے بغیر این آر سی لاگو نہیں کیا جائے گا۔بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق ”اگر سچ کہیں تو ہم اس طرح کے احتجاج کی توقع نہیں کررہے تھے۔“ اور اس احتجاج کو کٹر ہندوتوا وادیوں کی جانب سے ”ہندو مخالف احتجاج“ بنانے کی اندرونی کوشش ناکام ہوگئی ہے اور اس احتجاج میں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد بھی حصہ لے رہی ہے۔
حکومت کا درد سر: مرکزی حکومت کے لئے دوسر ا درد سر یہ بن گیا ہے کہ احتجاجیوں اور خاص کر جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کی طرف سے جو ظلم و ستم اور وحشیانہ سلوک کیا گیا ہے اس نے بین الاقوامی میڈیا میں مرکزی حکومت اور وزیراعظم مودی کی شبیہ خراب کردی ہے۔نیویارک ٹائمز میں چھپے ایک مضمون میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ”مودی کی حکومت نے احتجاج کو دبانے کے لئے فوجی دستوں کو طلب کیا۔ انٹرنیٹ کو بندکردیا۔کرفیو نافذ کردیا۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ کشمیر کے معاملے میں اس نے کیاتھا۔نئی دہلی میں غیر مسلح طلبہ کو پولیس نے لکڑی کے ڈنڈوں سے پیٹا۔انہیں گھسیٹا گیااور بے حساب طلبہ کو اسپتالوں میں لے جانا پڑا۔آسام میں انہوں نے بہت سارے نوجوانوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔ایک دوسرے اخبار ’نیو یارکر‘نے وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلم مخالف بیان بازیوں پر سوال اٹھائے۔اس سے قبل ہاورورڈ یونیورسٹی کے 100طلبہ نے حکومت ہند کو کھلا خط لکھا جس میں ”س اے اے کے خلاف ہورہے احتجاج“ کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعلان کیاگیا ہے اور ”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ پر تشدد کے ذریعے احتجاج کو دبانے کی سخت مذمت“ کی گئی ہے۔
خوش فہمی کا شکار نہ ہوں: حالات پرنظر نہ رکھنے والے تجزیہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ باضابطہ اعلان کیے بغیر بعض اندرونی ذرائع اور شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر افسران کے جانب سے قانون میں نرمی برتنے اور از سر نو غور کرنے جیسی باتوں کا شوشہ چھوڑنا شایدبھڑکی ہوئی عوام کو خوش فہمی میں مبتلا کرنے اور احتجاجی گرمی کی شدت کو فی الحال کم کرنے کا ایک منصوبہ ہواور جب ایک بار عوامی احتجاج کا زور ٹوٹ جائے تو پھرحکومت اپنا اصلی رنگ دکھانے پر آجائے۔